ڈپریشن اور غم کا علاج
ڈپریشن اور غم کا علاج
اسباب امراض میں سے ایک سبب غم اور ڈپریشن ہے ۔
غم۔مسلسل پریشانی(کسی بری خبر کا ذہن میں ٹھہرجانا اور ذہن کا اس کے بارے میں مسلسل سوچتے جانا)۔ذہنی دباؤ اور تناؤ۔ناکام محبت سے پیدا شدہ غم کہ کسی پیارے کی پیاری یادیں جو دل سے نہ نکل سکیں۔ بزنس میں بہت بڑا نقصان ہونے کے بعد کا پریشانی۔کسی پیارے کا آپ کو دھوکہ دینا جو آپ بھول نہ سکیں۔کسی کی موت کا غم، خصوصا والدین، اولاد، معشوقہ، شوہر بلکہ ہر وہ جس کے ساتھ آپ کا دلی لگاؤ زیادہ تھا۔ کسی بڑے گول یا مقصد کو حاصل نہ کر سکنے کا غم۔کسی موقعہ پر کسی بہت بڑی بے عزتی کا غم۔کاروباری اور معاشی اعتبار سے سیٹل نہ ہوپانے کی پریشانی وغم۔ گھریلو لڑائی جھگڑوں کی پریشانیاں کے بعد ہونے والا غم۔ اپنی ذمہ داری کو پورا نہ کر سکنے کی پریشانی۔ امتحان میں ناکامی ہوجانے کا غم۔کلاس میں بے عزتی ہوجانے کا غم ۔امتحانات کے دنوں میں درد سر۔ان کی وجہ سے جو غم پریشانی اور اس وجہ سے پیدا ہونے والی تمام تر امراض وتکلیفات کی دواء نیٹرم میور ہے۔
دماغ میں غم اور پریشانی موجود ہونے یا آپ کے ڈپریشن بیماری کے مریض ہونے کی بڑی علامات یہ ہیں:
۱۔کوئی بھی پریشانی والی بات آئے یا ڈر والی بات جب آجائے ،تو وہ ذہن سے نکلنے کا نام ہی نہیں لیتی ، بلکہ مسلسل باربار آپ اس کے بار ے سوچتے رہتے ہیں حتی کہ سونا مشکل ہوجاتا ہے، نید دیر سے آتی ہے۔
۲۔آپ عصر کے بعد سے رات سونے تک بلاوجہ غمگین ،اداس، افسردہ اور پریشان رہتے ہیں۔جیسے جیسے رات بڑھتی جاتی ہے، تو پریشانی بھی بڑھتی جاتی ہے ، اس سے کبھی کبھی رونے وک دل کرتا ہے۔
۴۔آپ نمک اور نمکین چیزیں زیادہ پسند کرتے ہیں۔ زیادہ میٹھا کھانے سے آپ کا بی پی لو ہوجاتا ہے یا طبیعت بے چین ہوجاتی ہے۔
۵۔آپ کو سر کی گدی میں دباؤ والا درد ہوتا ہے یا کبھی کبھی ایسا درد سر ہوتا ہے جس سے دماغ بالکل بند ہوجاتا ہے وہ بھاری بھاری محسوس ہوتا ہے۔سر کسی چیز کو مارنے کو دل کرتا ہے۔
۶۔ جب آسمان پر بادل ہوتے ہیں، تو آپ بے حد غمگین ہوجاتے ہیں یا بہت پریشان ہوجاتے ہیں یا بہت پتلا زکام لگ جاتا ہے یا جسم بہت زیادہ درد کرنے لگتا ہے۔حتی کہ محبت اور خوشی کے جذبات بھی ختم ہوجاتے ہیں۔آپ اپنے آپ کو مجرم سمجھتے ہیں کہ آپ اپنوں سے محبت نہیں کرتے۔
۷۔آپ کے سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہوچکی ہے یا ناک کسی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب سے بند ہوجاتا ہے، جسم میں حد درجہ کی خشکی ہے،اس سے ہاضمہ بھی خرابی ہے۔
۸۔آپ کے جسم کے مختلف حصوں میں بندش رہتی ہے ، خصوصا ناک بند رہتی ہے۔آپ انتہائی بند انسان ہیں کہ دل کا غم اور پریشان کسی کے ساتھ شیئر نہیں کرتے ۔ بعض اوقات دماغ کو بند کرنے والا درد سر ہوتا ہے۔نیند آنا بند ہوجاتا ۔ معدہ کی گیس نکلنا بند ہوجاتا ۔ حتی کہ کھانا ہضم ہونا بھی بند ہوجاتا ہے۔ آپ بات کرنا اور خوش رہنا بھی بند کر دیتے ہیں۔آپ کسی سے نظر نہیں ملا سکتے حتی کہ آ پ کی آنکھیں بند ہونے لگتی ہیں۔ بعض مریضو ں کی مقعد (پاخانہ کا مقام) بھی بند ہوجاتا ہے۔ اس سے یورک ایسڈ اور ایچ پیلوری بھی ہوجاتا ہے۔
۹۔آپ کو کھیل کود اور مذاق بالکل پسند نہیں ، بلکہ اکثر اوقات سنجیدہ رہتے ہیں۔جذبات مردہ ہوچکے ہیں، کوئی خوشی والی خبر یا موقع آپ کے دل میں زیادہ خوشی پیدا نہیں کر پاتا ہے۔رشتوں کا احساس نہیں رہا۔کسی کام میں دل نہیں لگتا ہے۔ حتی کہ رات کو سونے کا دل نہیں کرتا ۔ جو کا م آپ کو پسند تھے ، ان سے دلچسپی ختم ہو چکی ہے۔
۱۰۔ آپ کی اپنے بارے میں observation ۱ ور مشاہدہ خراب ہے ، یہ دماغ کے بند ہونے کی دلیل ہے۔ آپ اپنے بارے میں زیادہ صحیح طریقہ سے بیان نہیں کر پاتے کہ آپ کو کیا ہے یا آپ کی طلب کیا ہے یا آپ چاہتے کیا ہیں۔ آپ اپنے آپ کو صحیح طریقہ سے سمجھ نہیں سکتے۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کہ آپ کو کیا بیماری ہے۔اپنے آپ سے بے خبری۔
۱۱۔دھوپ سے نفرت۔ دھوپ میں بیٹھنے سے سوئیاں چبھنا(یہ خون کے گاڑھا ہونے کی دلیل ہے، جسم میں چکنائی کی کمی کی دلیل ہے)۔ مجلس سے نفرت اور بولنے سے نفرت ۔ مردوں سے نفرت جب کہ عورتوں سے نفرت نہیں ہوتی۔تنہائی اور اندھیرے سے پیار حتی کہ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آپ سب کچھ چھوڑ کر گھر کی چار دیواری سے باہر نہیں نکلنا چاہتے ہیں۔ بالکل بند ہوجاتے ہیں۔
۱۲۔ جسم کے مختلف حصوں میں سن ہونے کا شدید احساس۔ ہاتھ اور پاؤں کا سن ہوجانا۔
۱۳۔ سر کے بالوں کا گرنا یا وقت سے پہلے سفید ہوجانا۔ قبل از وقت بڑھاپا۔
۱۴۔ ایچ پیلوری۔ میں نے اس بیماری کی مکمل علامات نوٹ کی ہے۔ اس کی تمام علامات نیٹرم میور سے مشابہ ہے۔ اس لئے کسی بھی انسان کو ایچ پیلوری ہونا بھی ڈپریشن کی علامت ہے۔
۱۵۔گلے میں کیرا گرنا یا اکثر نمکین بلغم رہنا بھی ڈپریشن کی علامات سے ہے۔
۱۶۔کسی بڑے غم کے بعد مسلسل بی پی ہائی رہنا بھی ڈپریشن کی دلیل ہے۔
یہ بیان کردہ تمام علاما ت یا ان میں سے کسی ایک علامت یا شروع میں بیان کردہ کسی ایک سبب کا آپ کی زندگی میں ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ایک بہت بڑی بیماری کے مریض ہیں وہ ’’ڈپریشن‘‘ ہے۔یہ دماغی دباؤ ہے۔ مگر اکثر ڈپریشن کے مریض اپنے آپ کو ڈپریشن کا مریض ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور اکثر لوگوں کی ڈپریشن بیماری کا علم ہی نہیں ہے۔ یہ بیماری ایک بار ہوجائے اور دماغ میں گھر کر لے تو جب تک صحیح علاج نہ کیا جائے تب تک یہ ذھن سے نکلتی نہیں بلکہ آگے اولاد میں بھی منتقل ہوجاتی ہے۔
دوستو ! یہ بات یاد رکھنا کہ دنیا میں اکثر لوگ ڈپریشن کے مریض ہیں ۔اس لئے کہ ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی بڑا غم یا پریشانی موجود ہوتا ہے۔ وہ دل سے نکلتا ہی نہیں۔ اندر ہی اندر جسم کو کمزور سے کمزور کرتا جاتا ہے۔ مسلسل ڈپریشن اور دباؤ میں رہنے سے لقوہ، فالج، ہارٹ اٹیک، پاگل پن وغیرہ بھی ہوجاتا ہے۔آپ اس بات کو خوب یاد رکھنا کہ ڈپریشن اور غم بیس سال رہنے کے بعد بڑی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ غم بھی میازم کی طرح بڑی بیماریاں پیدا کرنے والا اور والدیں سے اولاد کی طرف منتقل ہونے والا انفیکشن ہے۔غم اور ڈپریشن کا اختتام کینسر یا فالج یا پاگل ہے یا دل کا رک جانا یا دل کی شریانوں کا بند ہوجانا ہے۔ڈپریشن اور غم کو معمولی نہ سمجھنا۔
ڈپریشن اور اس کی وجہ سے ہونے والی علامات وتکلیفات کی دواء نیٹرم میور ہے۔ نیٹرم میور ہومیوپیتھک کی بہت بڑی اور بہت زیادہ استعمال ہونے والی دواء ہے۔ یہ غم ،ڈپریشن، پریشانی، اداسی، افسردگی ، صدمہ اور ان سب کی وجہ سے پیدا ہونے والی تمام تکلیفات اور اخلاقی خرابیوں کو دور کرنے کے لئے کافی ہے۔الحمد للہ ، اس دواء نے بہت زیادہ لوگوں کو ڈپریشن سے نکال کر ان کی زندگیوں کو بدلا ہے اور خوش گوار بنا ہے۔نیٹرم میور 200 کے بارے میں میری رائے یہ ہے کہ یہ قیمتی دواء ہر انسان کے پاس ہونی چائے۔ جب بھی کوئی غم پریشانی افسردگی بنے اس کا ایک قطرہ لے لے۔اس سے طبیعت میں غمگین کرنے والا مادہ ختم ہوجاتا ہے۔ وہ نمک ہے۔
الحمد للہ، میں نے نیٹرم میور دواء لاتعداد مریضوں کو دی ہے اور بہتریں نتائج حاصل کئے ہیں۔ اس کا اثر انتہائی حیرت انگیز ہے۔ آپ بھی آزمائیں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہوگا۔ دنیا میں ہر انسان کو نیٹرم میور 200 کی ضرورت ہے۔
ہاں ، اس دواء کا مستقل استعمال کا طریقہ آگے بیان ہوا ہے۔یہ دواء مستقل طور پر انسانی جسم سے ڈپریشن کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ہاں ، طویل مدت تک ڈپریشن رہنے سے کمزوری ہو کر جو مستقل جدید امراض پیدا ہوتی ہیں ان کے لئے دوسری ادویہ استعمال کرنی پڑیں گی۔
ڈاکٹر ماجد حسین صابری (گجرات)
صابری مٹیریا میڈیکا


टिप्पणियाँ
एक टिप्पणी भेजें